Islamic Waqiat in Urdu
In the rich tapestry of history, certain Islamic waqiat in Urdu (events) shine as powerful examples of faith, justice, and mercy. One such unforgettable story comes from the early 8th century, during the reign of Caliph Umar ibn Abdul Aziz. When a Christian priest from Samarkand complained that Muslim forces had attacked without warning or offering them a chance to accept Islam, Umar appointed a judge to review the case. Astonishingly, the judge ruled against his own general, ordering the Muslim army to withdraw from Samarkand and leave the city free of occupation.
This Islamic waqiat in Urdu not only highlights the ideals of justice and compassion but also inspired the people of Samarkand to embrace Islam, recognizing the true spirit of early Islamic governance. Through this remarkable incident, we see how the fledgling Muslim state embodied mercy and fairness even in victory.
فتح ثمرقند اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ جسے پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ

ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد سلطنت اسلامیہ کے حکمران عمر بن عبد العزیز سے ملنا چاہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔
پادری نے لکھا ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور ہم پر راتوں رات اچانک حملہ کر کے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔ یہ خط ثمرقند کے سب سے بڑے پادری نے سلطنت اسلامیہ کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔
دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اٹھا کر اسے دے رہی تھی۔ جس راستے سے آیا تھا واپس اسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔ اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔
لوگوں نے کہا ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز کا گھر ہے۔ قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اسی گھر پر جا کر دستک دی۔ جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اندر سے نمودار ہوا۔ قاصد نے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبد العزیز کو دے دیا۔
عمر بن عبد العزیز نے خط پڑھ کر اسی خط کی پشت پر لکھا عمر بن عبد العزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔ مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دے دیا۔ سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا تو پادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔ اس نے سوچا کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا۔
مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لے کر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے۔ قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فوراً ایک قاضی کا تعین کر دیا جو اس کے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔ قاضی نے پادری سے پوچھا کیا دعویٰ ہے تمہارا۔ پادری نے کہا قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا نہ تو اس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔
قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں۔ قتیبہ نے کہا قاضی صاحب جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔ سمرقند ایک عظیم ملک تھا اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔ سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔
قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا قتیبہ میری بات کا جواب دو تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی۔ قتیبہ نے کہا نہیں قاضی صاحب میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔ قاضی نے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔
اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔ میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور ان کے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمرقند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔ اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔
پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کر جا چکا تھا۔ ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔ ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کرے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کا اقرار کرتے ہوئے انہیں واپس لے آئے کہ یہ آپ کی سلطنت ہے اور ہم آپ کی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے فخر سمجھیں گے۔ دین رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔ کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی آج غیر مسلم تو دور کی بات مسلمان سے مسلمان کو کوئی امان نہیں۔