Nasir Kazmi Ghazal in Urdu

Nasir Kazmi Ghazal in Urdu

Welcome to our dedicated section for Nasir Kazmi ghazal in Urdu. We know how much people love his meaningful words, so we have gathered the finest Nasir Kazmi ghazal in Urdu for all poetry lovers. You can read and share any Nasir Kazmi ghazal in Urdu from our extensive library. Simply scroll down, select your favorite, and enjoy the beauty of classic Urdu shayari.

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اے دل کسے نصیب یہ توفیقِ اضطراب
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
اے دوست ہم نے ترکِ محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

Best Nasir Kazmi ghazal in Urdu

 

پچھلے پہر کا سناٹا تھا

پچھلے پہر کا سناٹا تھا
تارا تارا جاگ رہا تھا
پتھر کی دیوار سے لگ کر
آئینہ تجھے دیکھ رہا تھا
بالوں میں تھی رات کی رانی
ماتھے پر دن کا راجا تھا

Read Nasir Kazmi ghazal in Urdu

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصرؔ
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

Famous Nasir Kazmi ghazal in Urdu

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔ
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

New Nasir Kazmi ghazal in Urdu

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

Classic Nasir Kazmi ghazal in Urdu

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے
اب شہر میں اس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں
ایوان غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے

Sad Nasir Kazmi ghazal in Urdu

کسی کا درد ہو دل بے قرار اپنا ہے

کسی کا درد ہو دل بے قرار اپنا ہے
ہوا کہیں کی ہو سینہ فگار اپنا ہے
ہو کوئی فصل مگر زخم کھل ہی جاتے ہیں
سدا بہار دل داغدار اپنا ہے
نہ ڈھونڈھ ناصرؔ آشفتہ حال کو گھر میں
وہ بوئے گل کی طرح بے قرار اپنا ہے

Beautiful Nasir Kazmi ghazal in Urdu

جرم انکار کی سزا ہی دے

جرم انکار کی سزا ہی دے
میرے حق میں بھی کچھ سنا ہی دے
تو نے بنجر زمیں کو پھول دیے
مجھ کو اک زخم دل کشا ہی دے
گر مجال سخن نہیں ناصرؔ
لب خاموش سے گواہی دے

Popular Nasir Kazmi ghazal in Urdu

 

Leave a Comment